أعوذ باللہ من الشیطان الرجيم ، بسم الله الرحمن الرحیم : يا أيها الناس إنا خلقناکم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمکم عن اللہ أتقاكم إن الله عليم خبیر ( الحجرات : ۱۳ ) ترجمہ : اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور مختلف خاندان اور کنبے بنائے ہیں تا کہ ایک دوسرے کو پہچان سکو ، یقینا اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے ، جو سب سے زیادہ تقوی والا ہو  اللہ بہت جانے والے اور بہت باخبر ہے ۔

 
تاریخ جنگ آزادی ہند اور علماء کرام کا عظیم کردار - ایک تحقیقی جائزہ نئے قالب میں

تمہید 

پندرہ اگست کو پورے ہندوستان میں یوم آزادی منائی جاتی ہے ، ترنگا پھیرایا جاتا ہے خوشیاں منائی جاتی ہیں مٹھائیاں اور چاکلیٹ تقسیم کیے جاتے ہیں ، یہ دن اور اس کی خوشیاں جو اس ملک کو نصیب ہوئیں وہ اس وجہ سے کہ ہمارے اکابر اور اسلاف نے اس ملک کو آزاد کرانے کے لیے جانوں کی بازی لگائی ، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جنگ آزادی کا مختصر تذکرہ کیا جائے ، اور اس بات کا بھی تذکرہ کیا جائے کہ کیا ہمارا ملک واقعی ایک جمہوری اور آزاد ملک ہے ؟ کیا ہم ہمارے ملک میں آزادی سے سانسیں لے رہے ہیں ؟ کیا سچ مچ ہمارے ملک کو اس وقت آزاد جمہوری ملک جس میں سب کے حقوق یکساں اور برابر حاصل ہوتے ہیں ، کہے جانے کا حق ہے ؟ کیا ان کا ہندو مسلم سکھ عیسائی ، آپس میں سب بھائی بھائی کے مصداق ساروں کو جینے کا دور ہے ، ہر ایک کو اپنے مذہب پر قائم و دائم رھنے کا پورا پورا حق دیا جا رہا ہے ؟


 آزادی کی اہمیت

 انسان اصلا فطری طور پر آزاد ہے ، اس کو آزادی کا فطری حق حاصل ہے ، وہ الله کے سوا کسی کا بھی غلام نہیں ہے ، اسلام چونکہ فطری دین ہے اس لیے وہ انسان کو اس کا فطری حق عطا کرتے ہوئے اس کو آزاد رہنے کی ترغیب دیتا ہے ، سارے انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں ، ہر انسان آزاد پیدا ہوتا ہے ، انسان کی فطرت میں آزادی ہے ، جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھا کچھ ایسے لوگ آئے جنھوں نے انسانوں کوخریدنا اور پیچنا شروع کر دیا ، غلامی کے بازار لگائے,  زمانہ جاہلیت میں بھی یہ سلسلہ چل رہا تھا ، جب اسلام آیا تو آہستہ آہستہ اس سلسلے کو ختم کیا ، انسانوں کو یہ خوشخبری سنائی گئی : ویضع عنہ إصرهم والأغلال التی کانت علیہم، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ان کا بوجھ اور طوق ، جو ان کے اوپر ہیں ، اتاردیں گے ۔


 نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم نے غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دی اس کے فضائل بیان فرمائے انسان سے کوئی ایسی غلطی ہو جائے جس پر کفارہ لازم ہوتا ہے تو بہت سے کفاروں میں غلام باندی کے آزاد کرنے کو قرآن مجید نے بیان کیا تا کہ یہ سلسلہ غلامی ختم ہو اور آہستہ آہستہ یہ سلسلہ کم ہوگیا ، 


آزادی کے حوالے سے یہ بنیادی بات بھی نظراندازنہیں ہونی چاہئے کہ جب تک آزادی حاصل نہ ہو انسان کا حق رہتی ہے حاصل ہو جائے تو یہ آزادی سب سے بڑی ذمہ داری بن جاتی ہے ، آزادی انسان کی امتیازی صفت بھی ہے اور اس کی سب سے بڑی آزمائش بھی ، آزادی محض ایک لفظ نہیں ہے زندگی کا ایک رویہ ہے , غلامی میں طاقتور انسان کمزور پر پابندیاں لگاتا ہے ۔ 


انسانی زندگی کے لئے جو اہمیت آکسیجن کی ہے وہی اہمیت معاشرتی زندگی کے لئے آزادی کی ہے ، آکسیجن نہ ہو تو آدمی کا دم گھٹنے لگتا ہے, اللہ رب العزت نے آزاد اور غلام کی مثال بیان فرمائی : ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَمَنْ رَزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا هَلْ يَسْتَوُونَ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

ترجمہ : الله مثال دیتے ہیں کہ ایک غلام ہے ، جو دوسرے کی ملکیت میں ہے ، وہ کسی چیز پرقدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے عمده روزی دی ہے ، وہ اس میں سے چھپے اور کھلے خرچ کرتا ہے ، کیا یہ برابر ہو سکتے ہیں ؟ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں ۔ 


یعنی غلام کی مثال مخلوق کی سی ہے جس کے طاقت اور اختیار میں کچھ نہیں ہے ، اور آزاد شخص کی مثال ایک درجہ میں خالق کی سی ہے جو مال و دولت کا مالک ہے اور اس میں سے خرچ کرنے کا پورا اختیار رکھتا ہے تو جب ایک آزاد اور غلام برابر نہیں ہو سکتے تو خالق اور مخلوق دونوں کیسے برابر ہوسکتے ہیں ؟ 

آزادی ہند میں مسلمانوں کا کردار

 
تاریخ جنگ آزادی ہند اور علماء کرام کا عظیم کردار - ایک تحقیقی جائزہ نئے قالب میں

ہندوستان کو طویل جدوجہد کے بعد آزادی کی نعمت حاصل ہوئی ، جس کے لیے ہمارے اسلاف نے زبردست قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا ، جان و مال کی قربانیاں دیں تحریکیں چلائیں تختہ دار پر چڑھے ، پھانسی کے پھندے کو جرات و حوصلہ اور کمال بہادری کے ساتھ بخوشی گلے لگایا قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں اور حصول آزادی کی خاطر میدان جنگ میں نکل پڑے ، آخر غیرملکی ( انگریز ) ملک سے نکل جانے پر مجبور ہوئے ۔ غیرملکی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے طرح طرح کی چالیں چلیں ، تدبیریں کیں ، رشوتیں دیں ، لابی دیے ۔ پھوٹ ڈالو اورحکومت کرو کا اصول بڑے پیا نے پراختیار کیا فرقہ وارانہ اختلافات پیدا کیے ، حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ، آپس میں غلط فہمیاں پھیلائیں ، تاریخ کو مسخ کیا انگریزوں نے ہندوستان کے معصوم باشندوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور ناحق لوگوں کو تخته دار پر لٹکایا ، ہندوستانیوں پر ناحق گولیاں چلا ئیں,  چلتی ریلوں پر سے اٹھا کر باہر پھینکا انگریزون کے ظلم و ستم کو روکنے اور طوق غلامی کو گردن سے نکالنے کے لیے بہادر مجاہدین آزادی نے ان کا مقابلہ کیا اور ملک کو آزاد کر کے ہی اطمینان کا سانس لیا ۔


 ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں کا حصہ قدرتی طور پر بہت ممتاز و نمایاں رہا ہے انھوں نے جنگ آزادی میں قائد اور رہنما کا پارٹ ادا کیا ، اس کی وجہ یہ تھی کہ انگریزوں نے اقتدار مسلم حکمرانوں سے چھینا تھا ، اقتدار سے محرومی کا دکھ مسلمانوں کو ہوا ۔ انہیں حاکم سے محکوم بننا پڑا ، اسی لیے محکومیت و غلامی سے آزادی کی اصل لڑائی بھی انہیں کو لڑنی پڑی ۔ 


 انگریز کی ہندوستان آمد 

واسکوڈی گاما کی قیادت میں پرتگال کے ملاحوں نے سب سے پہلے سرزمین ہند کو اپنے ناپاک قدموں سے آلودہ کیا اور صوبہ بنگال کے شہر کلکتہ اور جنوبی ہند کے شہر کالی کٹ کو اپنی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا, یہ لوگ تجارت کے مقصد سے آئے تھے مگر مذہب کی اشاعت میں بھی سرگرم ہو گئے ، اس وقت ہندوستان سونے کی چڑیا کہلاتا تھا ، اس ملک میں تجارت کے بے شمار مواقع تھے ، مالی ترقی کے وسیع تر امکانات نے انگستان کے تاجروں کو بھی اور توجہ کیا انہوں نے تیس ہزار پاؤنڈ سے ایسٹ انڈیاکمپنی کی بنیادرکھی اور١٦۰١ ء میں پہلی مرتبہ اس کمپنی کے تجارتی جہاز ہندوستان کے ساحلوں پر لنگر انداز ہوئے ، ١٦١۲ ء میں جہانگیر کے عہد حکومت میں ان انگریزی تاجروں نے شہنشاہ کی اجازت سے گجرات کے شہر سورت میں اپنا اقتصادی مرکز بنالیا اور بہت جلد اس کی شاخیں احمدآباد ، اجمیر ، برہان پور اور آگرہ میں قائم کر دیں ، شہر اس زمانے میں تجارت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے تھے اور بڑے تجارتی مراکز میں شمار کئے جاتے تھے ، اورنگ زیب عالمگیر کے عہد حکومت تک انگریزوں کی سرگرمیاں صرف تجارت تک محدود ہیں ، اورنگ زیب کے انتقال کے بعد مغلیہ حکومت کا شیرازہ منتشر ہونے لگا یہاں تک کہ احمد شاہ کے دور حکومت ( ۱۷۴۸ ء تا ۱۷۵۴۲ ء ) میں ملک طوائف الملوک کا شکار ہوگیا, بہت سے صوبوں نے اپنی خودمختاری کا اعلان کر دیا ، ایسٹ انڈیا کمپنی جو اب تک صرف ایک تجارتی کمپنی تھی ملک گیری کی ہوس میں گہر گئی اپنی سیاسی قوت بڑھانی شروع کردی یہاں تک کہ اس نے کلکتے میں اپنا ایک مضبوط فوجی قلعہ بھی تیار کرلیا ۔ 

مزید پڑھیں 

یوم آزادی ہند کی حقیقت -کیا واقعی ہم آزاد ہیں آج

یوم آزادی, آزادی خون, پانی کیسے بن گیا -مفتی نصر اللہ ندوی

جنگ آزادی کا آغاز

 عام طور پر کہا جاتا ہے کہ انگریزوں کے خلاف مسح جد و جہد کا آغاز ۱۸۵۷ ء سے ہوا ، یہ ایک غلط بات ہے جو جان بوجھ کر عام کیا گیا ہے تا کہ ۱۸۵۷ ء سے سو برس پہلے جس تحریک کا آغاز ہوا اور جس کے نتیجے میں بنگال کے سراج الدولہ نے ۱۷۵۷ ء میں ، مجنوں شاہ نے ۱۷۷۶ ء اور ۱۷۸۰ میں ، حیدرعلی نے ۱۷۶۷ ء میں اس کے بیٹے سلطان ٹیپو نے ۱۷۹۱ ء میں,  مولوی شریعت اللہ اور ان کے بیٹے دادومیاں نے 1814 ء میں اور سید احمد شہید نے ۱۸۳۱ ء میں انگریزوں کے خلاف جو باقاعدہ جنگیں لڑیں وہ سب تاریخ کے غبار میں دب جائیں ، اور اہل وطن یہ نہ جان سکیں کہ مسلمانوں کے دلوں میں انگریزوں کے خلاف نفرت کی چنگاری اس دن سے سلگ رہی تھی جس دن انہوں نے اپنے ناپاک قدم اس سرزمین پر رکھے تھے اور تجارت کے نام پر سیاسی اور فوری اثر ورسوخ حاصل کر کے یہاں کے حکمرانوں کو بے دست و پا کر دیا تھا, سو سال تک مسلمان پوری طاقت اور قوت کے ساتھ اپنے علماء کی قیادت میں ان سے نبردآزمار ہے ، یہاں تک کہ ۱۰ مئی ۱۸۵۷ کو تحریک آزادی کی جد و جہد کا دوسرا دور شروع ہوا اور غیرمسلم اہل وطن نے بھی جد و جہد آزادی میں اپنی شرکت درج کرائی ۔ 


 سراج الدولہ 

سراج الدولہ پہلا شخص ہے جس نے انگریزوں کے خطرے کو محسوس کیا اور انگریزوں کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کی کوشش کے طور پر پلاسی کے میدان میں ان سے جنگ کی ، اگر سراج الدولہ کا وزیر میر جعفر غداری نا کرتا تو انگریز دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو جاتے ، اس غدار وطن کی وجہ سے سراج الدولہ کو شکست ہوئی ، انعام کے طور پر میر جعفر کو بنگال کا اقتدار ملا لیکن اس کا اقتدار زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکا ، کچھ دنوں بعد وہ معزول کر دیا گیا ، اس کا داماد میر قاسم بر سر اقتدار آیا ، انگریزوں کی مخالفت کی وجہ سے وہ بھی دیر تک اقتدار پر تابض نہ رہ سکا یہاں تک کہ انگریز 1763 ء میں بہار اور بنگال پر قابض ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اودھ تک پھیل گئے ۔( علماء کے خون سے رنگین داستان آزادی مولانا ندیم الواجدی ) 


جنگ آزادی میں حیدر علی اور ٹیپو سلطان کا کردار 

دکن فرمانروا حیدر علی اور ان کے صاحبزادہ ٹیپو سلطان کے ذکر کے بغیر جنگ آزادی کی تاریخ ادھوری ہوگی ، جو مستقل انگریزوں کے لیے چیلنج بنے رہے ۔ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں سب سے پہلا شخص جس کو اس خطرہ کا احساس ہوا وہ میسور کے باہمت اور غیور فرمانروا فتح علی خان ٹیپو سلطان ( ۱۳۱۳ ھ ۱۷۹۹ ء ) تھا ، جس نے اپنی بالغ نظری اور غیرمعمولی ذہانت سے یہ بات محسوس کر لی کہ انگریز اسی طرح ایک ایک صوبہ اور ایک ایک ریاست ہضم کرتے رہیں گے اور اگر کوئی منظم طاقت ان کے مقابلہ پر نہ آئی تو آخر کار پورا ملک ان کا لقمہ تر بن جائے گا ؛ چنانچہ انھوں نے انگریزوں سے جنگ کا فیصلہ کیا اور اپنے پورے ساز و سامان ، وسائل اور فوجی تیاریوں کے ساتھ ان کے مقابلے میں آگئے ۔


 حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے انگریزوں سے چار جنگیں  کیں ٹیپو سلطان1782 میں حکمران ہوئے ، 1783 ء میں انگریزوں سے ٹیپو کی پہلی جنگ ہوئی اور انگریزوں کو شکست ہوئی ، یہ جنگ 1784 ء میں ختم ہوئی ، یہ میسور کی دوسری جنگ کہلاتی ہے انگریز شکست کا انتقام لینے کے لیے بے چین تھے ۔ چنانچہ1792 ء میں انگریزوں نے اپنی شکست کا انتقام لیتے ہوئے حملہ کیا مگر اپنے بعض وزراء و افسران خصوصا میر صادق کی بے وفائی اور اپنی ہی فوج کی غداری اور اچانک حملہ کی وجہ سے ٹیپو معاہدہ کرنے پر مجبور ہوئے ۔ 


ٹیپو سلطان کی جدوجہد اور اولوالعزمی

 ٹیپو نے ہندوستان کے راجوں مہاراجوں اور نوابوں کو انگریزوں سے جنگ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ، اس مقصد سے انھوں نے سلطان سلیم عثمانی کو اور دوسرے مسلمان بادشاہوں اور ہندوستان کے امراء اور نوابوں سے خط و کتابت کی اور زندگی بھر انگریزوں سے سخت معرکہ آرائی میں مشغول رہے قریب تھا کہ انگریزوں کے سارے منصوبوں پر پانی پھر جائے اور وہ اس ملک سے بالکل بے دخل ہو جائیں مگر انگریزوں نے جنوبی ہند کے امراء کو اپنے ساتھ ملا لیا اور آخر کار اس مجاہد بادشاہ نے 3 مئی 1799 ء کو سرنگا پٹنم کے معرکہ میں شہید ہوکر سرخروئی حاصل کی ،انھوں نے انگریزوں کی غلامی اور اسیری اور ان کے رحم و کرم پر زندہ رہنے پر موت کوترجیح دی ، ان کا مشہور تاریخی مقولہ ہے کہ گیڈر کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی اچھی ہے ، جب جرنل HORSE کو سلطان کی شہادت کی خبر ملی تو اس نے ان کی نعش پرکھڑے ہوکر یہ الفاظ کہے کہ :آج سے ہندوستان ہمارا ہے۔

 ہندوستانی مسلمان : 137 ) 


جنگ آزادی میں شاہ ولی اللہ اور انکے شاگردوں کا کردار

 یہ وہ دور تھا جب انگریزوں کے علاوہ ایران و افغانستان سے تعلق رکھنے والے دوسرے حکمراں بھی ہندوستان کو اپنے زیرنگیں کرنے کے لیے حملہ آور ہوئے ۱۷۳۸ ء میں نادر شاہ نے دہلی کو تہ و برباد کیا اور 1757 ء میں احمد شاہ ابدالی نے دو ماہ تک مسلسل اس شہر کو یرغمال بنائے رکھا ، دوسری طرف انگریز فوجیں مرہٹوں سے ٹکراتی ہوئیں ، سراج الدولہ کوشکست دیتی ہوئیں اور سلطان ٹیپو کو جام شہادت پلاتی ہوئیں دہلی کی طرف بڑھ رہی تھیں ، ابھی انگریزوں نے پوری طرح دہلی کا اقتدار حاصل بھی نہیں کیا تھا کہ علماء ہند کے میر کارواں امام الہند حضرت شاہ ولی الله دہلوی ( ۱۷۰۳ ء ۱۷۲۲ ء ) نے مستقبل کے خطرات کا ادراک کر لیا ، اور دہلی پر قبضے سے پچاس برس پہلے ہی اپنی جد و جہد کا آغاز کردیا ، اس کی پاداش میں آپ پر جان لیوا حملے بھی کئے گئے لیکن آپ اپنے نظریے پر ڈٹے رہے ، انہوں نے اپنی کتابوں میں خطوط میں تقریروں میں اپنا نظریہ اس طرح پیش کیا "تباہ حال شہر جس پر درندہ صفت انسانوں کا تسلط ہو جن کو اپنی حفاظت و دفاع کی پوری طاقت حاصل ہو ،  یہ ظالم و جابر گروہ جو انسانیت کے لیے سرطان ہے ، انسان اس وقت تک صحتمند نہیں ہوسکتا جب تک اس سرطان کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک نہ دیا جائے ۔ ( حجة الله البالغہ: ۱۵۷ ) افسوس حضرت شاہ صاحب 1765 ء میں وفات پا گئے اور ان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا تاہم وہ اپنی کتابوں کے ذریعے اور اپنے فکر عمل کے ذریعے ایک نصب العین متعین کر چکے تھے ، انقلاب کا پورا لائحہ عمل تیار کر چکے تھے اور انقلاب کے بعد کی ممکنہ حکومت کے لیے اقتصادی ، اور سیاسی اصولوں کی روشنی میں ایک عملی نظام وضع کر چکے تھے ، ضرورت صرف اس بات کی تھی کہ ان کے چھوٹے ہوئے کام کو آگے بڑھانے کے لیے کچھ لوگ میدان عمل میں آئیں ، چناں چہ  حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی نے حوصلہ دکھایا ، حالاں کہ وہ اس وقت محض سترہ سال کے تھے مگر اپنے والد بزرگوار کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے انہوں نے عزم و استقلال سے کام لیا اور حضرت شاہ صاحب کے نظریہ انقلاب کو مخصوص لوگوں کے دلوں سے نکال کر عام انسانوں کے دلوں میں اس طرح پیوست کردیا کہ ہر زبان پر جہاد اور انقلاب کے نعرے مچلنے لگے ۔ انقلاب کی اس صدائے بازگشت کو دہلی سے باہر دور دور تک پہنچانے میں حضرت شاہ عبدالعزیز کے تینوں بھائیوں حضرت شاه عبدالقادر حضرت شاہ رفیع الدین اور حضرت شاہ عبدالغنی دہلوی کے علاوہ جن لوگوں نے پورے خلوص اور للہیت کے ساتھ اپنا بھر پور تعاون پیش کیا ان میں حضرت شاہ عبدالحئی حضرت شاه اسماعیل شہید حضرت سید احمد شہید اور مفتی الہی بخش کاندھلوی کے اسمائے گرامی بطور خاص قابل ذکر ہیں ، تربیت گاہ عزیزی سے نکل کر مسلح جدوجہد کو نصب العین بنانے والوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز تھی ، اور ہندوستان کا کوئی گوشہ ایسا نہیں تھا جہاں اس انقلاب کی دستک نہ دی گئی ہو اور جہاں اس آواز پر لبیک کہنے والے موجود نہ ہوں ۔ حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی نے اس تحریک کو دل و جان سے پروان چڑھایا مگر طرح طرح کی مشکلات اور مصائب بھی برداشت کئے ، آپ کی جائداد بھی غصب کی گئی ، آپ کو شہر بدر بھی کیا گیا ، آپ پر قاتلانہ حملے بھی کئے گئے دو مرتبہ زہر دیا گیا ، اور ایک مرتبہ ابٹن میں چھپکلی ملا کر پورے بدن پر مالش بھی کی گئی ، جس سے بینائی بھی جاتی رہی اور بے شمار امراض بھی پیدا ہوئے ، ان تمام مصائب کے باوجود ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش محسوس نہیں کی گئی ۔


 جنگ آزادی کا فتوی

 1803 ء میں لارڈ لیک نے شاہ عالم بادشاہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور دہلی پر قابض ہوگیا ، اس قبضے کے لیے جو سہ نکاتی فارمولہ اپنایا گیا وه یہ تھا "خلقت خدا کی ملک بادشاہ سلامت کا اور حکم کمپنی بہادر کا, یہ فارمولہ اس لیے اختیار کیا گیا تا کہ بادشاہت کے خاتمے سے عوام میں بددلی اور مایوسی پیدا نہ ہو اور وہ بغاوت پر آمادہ نہ ہوجائیں ، اس لیے بادشاہ کے تخت و تاج کو تو باقی رکھا گیا مگر اس کے تمام اختیارات سلب کر لئے گئے ، قناعت پسند طبیتوں کے لیے یہ فارمولہ بھی تسلی بخش تھا مگر حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی اور ان کے جیسے فکر رکھنے والے لوگ اس تعبیر میں مضمر فریب اور خطرے کو محسوس کر رہے تھے ۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب آپ نے انگریزی اقتدار کے خلاف نہایت جرات مندانہ فتوی جاری کیا جس کے فارسی متن کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے : ” یہاں رؤساء نصاری ( عیسائی افسران ) کا حکم بلا دغدغہ اور بے دھڑک جاری ہے اور ان کا حکم جاری اور نافذ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ملک داری ، انتظامات رعیت ,خراج ، باج ، عشره مال گزاری ، اموال تجارت ، ڈاکووں اور چوروں کے انتظامات ، مقدمات کا تصفیہ ، جرائم کی سزاؤں وغیرہ ( یعنی سول ، فوج ، پولیس ، دیوانی اور فوج داری معاملات ، کسٹم اور ڈیوٹی وغیرہ میں یہ لوگ بطور خود حاکم اور خود مطلق ہیں ، ہندوستانیوں کو ان کے بارے میں کوئی دخل نہیں ، بے شک نماز جمعہ عیدیں اذان وغیرہ جیسے اسلام کے چند احکام میں وہ رکاوٹ نہیں ڈالتے لیکن جو چیز ان سب کی جڑ اور تربیت کی بنیاد ہے ( یعنی ضمیر اور رائے کی آزادی اور شہری آزادی ) وہ قطعا ہے حقیقت اور پامال ہے ، چناں چہ بے تکلف مسجدوں کو مسمار کر دیتے ہیں ، عوام کی شہری آزادی ختم ہو چکی ہے ، انتہا یہ کہ کوئی مسلمان یا ہندو ان کے پاسپورٹ اور پرمٹ کے بغیر اس شہر یا اس کے اطراف و جوانب میں نہیں آ سکتا ، عام مسافروں یا تاجروں کو شہر میں آنے جانے کی اجازت دینا بھی مکی مفاد یا عوام کی شہری آزادی کی بنا پر ہے بلکہ خود اپنےنفع کی خاطر ہے ، اس کے بالمقابل خاص خاص ممتاز اور نمایاں حضرات مثلا شجاع الملک اور ولایتی بیگم ان کی اجازت کے بغیر اس ملک میں داخل نہیں ہو سکتے ، دہلی سے کلکتہ تک انہیں کی عمل داری ہے ، بے شک کچھ دائیں بائیں مثلا حیدر آباد, لکھنو ، رام پور میں چوں کہ وہاں کے فرمانرواؤں نے اطاعت قبول کر لی ہے ، براہ راست نصاری کے احکام جاری نہیں ہوتے ۔ اگر اس سے پورے ملک کے دارالحرب ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا ) خلافت کی جدوجہد کے جنگ آزادی ) د ( فتاوی عزیزی فارسی جلد اول , علماء ہند کا شاندار ماضی  ۴۳۸-۲۴۹ ) 


یہ اولین فتوی ہے جو انگریزوں کے خلاف دیا گیا اور جس میں دارالحرب کا مخصوص اصطلاحی لفظ استعمال کیا گیا ، جس کا صاف اور صریح مطلب یہ ہے کہ ہر محب وطن مسلمان شہری پر فرض ہے کہ وہ  اپنے حکمرانوں کے خلاف اعلان جنگ کرے اور اس وقت تک سکون سے نہ بیٹھے جب تک قابضین کا ایک ایک فرد ملک کی سرحد سے باہر نہ ہوجائے ، حضرت شاہ عبد العزیز کے اس فتوے کا اثر یہ ہوا کہ خواص تو خواص عوام بھی انگریزوں کے خلاف مسلح جدوجہد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ ( علمائے ہند کا شاندار ماضی : ۲ / ۱۰۲ )


 تحریک بالا کوٹ

 یہ اسی فتوے کا اثر تھا کہ آپ کی تحریک حریت کے ایک جانباز سپاہی حضرت سید احمد شہید نے گوالیار کے مہاراجہ کولکھا کہ یہ بیگانگان ، بعيد الوطن و تاجران متاع فروش ‘ ‘ آج بادشاہ بن بیٹھے ہیں ، سمندر پار اجنبیوں اور سامان بیچنے والوں کا زمام اقتدار سنبھالنا واقعی عار کی بات تھی اور حضرت سید احمد شہید اس حوالے سے گوالیار کے مہاراج کو انگریزوں کے خلاف آماده جنگ کرنا چاہتے تھے ، ان خطوط کے علاوہ حضرت سید احمد شہید اپنے پیر و مرشد رہنما و قائد حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی کے حکم پر امیر علی خاں سنبھلی کے پاس بھی تشریف لے گئے جو اس وقت جسونت راو ہلکر کے ساتھ مل کر انگریزی فوجوں پر شب خوں مار رہا تھا ، ۱۸۱۵ ء تک یہ اشتراک کامیابی کے ساتھ جاری رہا لیکن انگریزوں نے امیرعلی خان کو نواب کا خطاب اور محفوظ ریاست کا لالچ دے کر ہتھیار رکھنے پر مجبور کردیا ، اس صورت حال سے آزردہ خاطر ہوکر حضرت سید احمد شہید دہلی واپس ہوگئے ، اس طرح ۱۸۱۸ ء تک تمام چھوٹے بڑے علاقے اور ریاستیں انگریزوں کے زیراقتدار آئیں ۔


 حضرت شاہ عبد العزیز نے اپنے ضعف ، امراض اور پیرانہ سالی کے باوجود وطن کی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد کا سفر جاری رکھا ، انگریزوں کو اقتدار سے دور رکھنے میں ناکامی کے باوجود وہ مایوس نہیں ہوئے ، اور نہ اپنے مقصد سے پیچھے ہٹے بلکہ انہوں نے بدلے ہوئے حالات میں ایک نیا لائحہ عمل مرتب کیا جس کے تحت دو کمیٹیاں بنائی گئیں ، ایک کمیٹی کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں رکھی ، اس میں شاہ محمد اسحاق دہلوی ، مولانا شاہ محمد یعقوب دہلوی ، مفتی رشید الدین دہلوی ، مفتی صدر الدین آزرده ، مولانا حسن علی لکھنوی ، مولانا گل سر  میں شاہ محمد اسحاق دہلوی ، مولانا شاہ مر یعقوب دہلوی ، مفتی رشید الدین دہلوی مفتی صدرالدین آزردہ ، مولانا حسن علی لکھنوی ، مولانا حسین احمد ملیح آبادی اور مولانا شاہ عبدالغنی دہلوی جیسے اولوالعزم حضرات شامل تھے ۔ اس کمیٹی کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ جہاد کے اصل مرکز کو اس کے اصل کردار کے ساتھ باقی رکھے ، تاکہ اس کے ذریعے ایک ایسی نسل کی آب یاری کا سلسلہ جاری رہے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے طے کردہ خطوط کے مطابق منبر ومحراب کی زینت بننے کی اہل بھی ہو اور محاذ جنگ پر دشمنوں سے طاقت آزمائی کی صلاحیت بھی رکھتی ہو ، دوسری کمیٹی کی قیادت حضرت سید احمد شہید کے سپرد کی گئی اور حضرت شاہ اسماعیل شہید اور مولانا عبدالحئی کو ان کا خصوصی مشیر متعین کیا گیا ، اس کمیٹی کا یہ کام تھا کہ اس کے اراکین ملک بھر میں گھوم پھر کر عوام بالخصوص علماء کے دلوں میں انقلاب کا جذبہ پیدا کریں ، رضا کار بھرتی کریں ، اور نہیں محاذ جنگ پرلڑنے کی ٹریننگ دیں ، مالی فراہم کریں ، غیر ممالک کے ساتھ خاص طور پر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کریں ، اور جہاں بھی موقع ہو جنگ لڑیں ، چناں چہ ۱۸۲۳ ء میں حضرت شاہ احمد شہید نے پورے طور پر خود کو جہاد کے لیے وقف کردیا ۔ ( تاریخ دیو بند : ۱۹۱ )


 اس مقصد کے لیے حضرت سید احمد شہید نے سات ہزار میل کا ایک طویل انقلابی دورہ کیا جس کے دوران وہ ہندوستان کے مختلف شہروں کے علاوہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی گئے ، اس سفر کا بڑا مقصد یہ تھا کہ عوام کو انگریزوں کے خلاف متحد کیا جائے ، ۲۱ / ستمبر 1826ء کو حضرت سید احمد شہید نے فوجی کاروائی کا آغاز کیا اور کئی باضابط جنگیں لڑیں ، ان جنگوں میں حضرت سید احمد شہید اور ان کے رفقاء نے خوب داد شجاعت دی ، ۱۰ / جنوری ۱۸۲۷ ء کو عارضی حکومت بھی قائم ہوئی لیکن ایک طرف مجاہدین کی بے سروسامانی دوسری طرف سکھوں اور انگریزوں کی جدید ترین اسلحہ سے لیس مشترک فوج ، بے شمار چھوٹی بڑی جنگوں کے بعد  1831 میں حضرت سید احمد شہید کی فوج کو ہزیمت اٹھانی پڑی ، آپ نے اور آپ کے قریب ترین رفیق حضرت شاه اسماعیل شہید اور دوسرے بے شمار ساتھیوں نے بالا کوٹ کے میدان میں جام شہادت نوش کیا ۔ ( تاریخ ہند : ۳۹۸ ، سیرت سید احمد شہید ج ۲ ص ۲۱۴ ) 


حضرت سیداحمد شہید کی ھزیمت اگر چہ وطن کی آزادی کے لیے تھی مگر اس پر مذہبی رنگ غالب تھا تاکہ عوام میں مذہبی جذبات بیدار ہوں ، یہ محض تحریک آزادی ہی نہیں تھی بلکہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے اعمال اور اعتقاد کی اصلاح بھی مقصود تھی ، اس تحریک سے وابستہ شخص فوجی جرنیل بھی تھا ، اور احیاء سنت کا علم بردار بھی, اس تحریک کی بہ دولت ہندوستان کے مسلمانوں کے جسم و جاں میں مذہب کی روح پوری طرح تحلیل ہو چکی تھی ، یہی وجہ ہے کہ جب ۱۸۵۷ ء میں انقلاب کی تحریک دوبارہ شروع ہوئی تو انگریزی فوج میں شامل مسلمانوں کو مذہب کے حوالے سے بغاوت پر اکسایا گیا ، انہیں بتلایا گیا کہ جس کارتوس کو استعمال کے وقت منہ سے کھینچنا پڑتا ہے اس میں سور کی چربی ملی ہوئی ہے ، یہ سن کر مسلمان فوجی جھٹک گئے اور اس طرح میرٹھ سے تحریک آزادی کے دوسرے دور کا آغاز ہوا ۔ حضرت سید احمد شہید اور حضرت شاہ اسماعیل شہید کی شہادت کے بعد یہ تحریک ختم نہیں ہوئی ، بلکہ وہ جذبہ جو اس تحریک کے ذریعے عوام و خواص کے دلوں میں پروان چڑھا تھا اسی طرح تروتازہ رہا ، ابتدا میں یہ ایک چنگاری تھی جو آہستہ آہستہ ایک شعلہ بن گئی ، انگریز اس تحریک کو  انگریز اس تحریک کو جسے انہوں نے وہابی تحریک کا نام دیا تھا کچلنے کے لیے پوری طرح سرگرم مل رہے ۔ 1848 ء میں انگریزوں کے ساتھ اس تحریک سے وابستہ افراد نے پنجاب کے متعدد شہروں میں بے شمار جنگیں لڑیں ، بہت سے لوگوں نے جام شہادت نوش کیا ، بے شمار مجاہدین گرفتار کئے گئے ان پر مقدمات چلے اور انہیں بغاوت کے الزام میں سردار چڑھایا گیا ۔


 1857 کی جنگ آزادی

 1857 میں شاملی ضلع مظفر نگر کے میدان میں علماء دیوبند نے انگریزوں سے باقاعدہ جنگ کی ، جس کے امیر حاجی امداللہ مہاجر رحمه الله مقرر ہوئے ، اور اس کی قیادت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ الله مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ اور مولانا منیر نانوتوی رحمہم اللہ کررہے تھے ، اس جنگ میں حافظ ضامن رحمہ اللہ شہید ہوئے ، مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ انگریزوں کی گولی لگ کر زخمی ہوئے ، انگریزی حکومت کی طرف سے آپ کے نام وارنٹ جاری ہوا لیکن گرفتار نہ ہو سکے مولانا رشید احد گنگوہی رحمه اللہ کو گرفتار کیا گیا اور سہارنپور کے قید خانہ میں رکھا گیا ، پھر کچھ دن کالی کوٹھری میں رکھ کر مظفرنگر کے قید خانہ میں منتقل کیا گیا ، چھ ماہ تک آپ کو قیدو بند کی مصیبتیں جھیلنی پڑی ۔


 ۱۸۵۷ ء کی جنگ میں بظاہر شکست ہوئی مگر یہ شکست نہیں ، فتح تھی ۔ ۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے اسلام پر حملہ کیا اسلامی عقائد اسلامی فکر اور اسلامی تہذیب کو ہندوستان سے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ، یہاں سے انگریزوں کا زوال شروع ہوا حکومت برطانیہ کا لارڈ میکالے جب وائسرائے بن کر آیا تو اس نے مغربی تہذیب اور مغربی فکر ، نصرانی عقائد قائم کرنے کا ایک پروگرام بنایا ، اس نے کہا : میں ایک ایسا نظام تعلیم وضع کر جاوں گا جس سے ہندوستانی مسلمان کا جسم  کالا ہوگا مگر دماغ گورا یعنی انگریز کی طرح سوچے گا ۔


 ۱۸۵۷ / کی جنگ آزادی میں علماء کرام نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا ، اس جنگ کے لیے علماء کرام نے عوام کو جہاد کی ترغیب دلانے کے لئے ملک کے طول وعرض میں وعظ وتقریر کا بازار گرم کر دیا اور جہاد پر ابھارنے کا فریضہ انجام دیا نیز ایک متفقہ فتوی جاری کر کے انگریزوں سے جہاد کو فرض عین قرار دیا ، اس فتوی نے جلتے پر تیل کا کام کیا اور پورے ملک میں آزادی کی آگ بھڑک اٹھی ۔


 ۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی مختلف وجوه و اسباب کی بنا پر ناکام رہی اور آزادی کے متوالوں پر ہول ناک مظالم کے پہاڑ توڑ ڈالے گئے ، ان میں مسلمان اور بطور خاص علماء ، انگریزوں کی مشق ستم کا نشانہ بنے ، اس لئے کہ انھوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اور علماء کرام نے ان کے خلاف فتوی دے کر جہاد کا اعلان عام کردیا تھا ، چنانچہ ۱۸۵۷ سے چودہ برس پہلے ہی گورنر جزل ہند نے یہ کہہ دیا تھا کہ مسلمان بنیادی طور پر ہمارے مخالف ہیں اس جنگ میں دو لاکھ مسلمانوں کو شہید کیا گیا جن میں ساڑھے اکیاون ہزار علماء کرام تھے ، انگریز علماء کے اتنے دشمن تھے کہ ڈاڑھی اور لمبے کرتے والوں کو دیکھتے ہی پھانسیاں دے دیتے تھے ، ایڈورڈ ٹامسن نے شہادت دی ہے کہ صرف دہلی میں پانچ سو علما کو پھانسی دی گئی ریشمی رومال ص : ۳۵ ) 


 دہلی ، کلکتہ ، لاہور بمبئی ، پٹنہ,  انبالہ ، الہ آباد , لکھنو ، سہارنپور ، شاملی اور ملک کے چپے چپے میں مسلمان اور دیگر مظلوم ہندوستانیوں کی لاشیں نظر آرہی تھیں علماء کرام کو زندہ خنزیر کی کھالوں میں سی دیا جاتا تھا پھر نذر آتش کر دیا جاتا تھا کبھی ان کے بدن پرخنزیر کی چربی مل دی جاتی پھر زندہ جلا دیا جاتا تھا ۔( ایسٹ انڈیا کمپنی اور باغی علماء )


 انڈین نیشنل کانگریس کا قیام اور اس میں مسلمانوں کا حصہ


 1884 ء میں انڈین نیشنل کانگریس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا ، جس میں بعض ممتاز اہل علم و ابل فکر مسلمان بھی شریک تھے ، اور اس کا قیام ۱۸۸۵ ء میں عمل میں آیا ، اس کے بانیوں میں مسلمان بھی شامل تھے جن کے نام بدرالدین طبیب جی اور رحمت اللہ سیانی تھے ۔ کانگریس کا چوتھا اجلاس ۱۸۸۷ ء میں مدراس میں ہوا جس کی صدارت بدر الدین طبیب ہی نے کی ۔ 


تحریک ریشمی رومال

 ۱۹۱۲ ء میں ریشمی رومال تحریک کی ابتداء ہوئی جس کے بانی فرزند اول دارالعلوم دیوبند تھے جن کو دنیا شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی کے نام سے جانتی ہے, بقول مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمه الله : " آپ ( شیخ الہند ) انگریزی حکومت اور اقتدار کے سخت ترین مخالف تھے ، سلطان ٹیپو کے بعد انگریزوں کا ایسا دشمن اور مخالف دیکھنے میں نہیں آیا ۔ اس تحریک میں اہم رول آپ کے شاگرد مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ نے ادا کیا ، افغانستان کی حکومت کو مدد کے لیے تیار کرنا اور انگریزوں کے خلاف رائے عامہ بنانا مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ کا مشن تھا شیخ الہند رحمہ الله کے نمائندے ملک کے اندر اور بیرونی ملک کے باہر سرگرم اور فعال تھے ، افغانستان ، اور حجاز کے اندر قاصد کا کام کر رہے تھے ، خلافت عثمانیہ کے ذمہ داروں سے مثلا انور پاشاہ وغیرہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ، اور ترکی جانے کا شیخ الہند نے خود عزم کرلیا تھا ، اس مقصد کے لیے پہلے وہ حجاز تشریف لے گئے اور وہاں تقریبا دو سال قیام رہا ، اس اثنا میں دو حج کیے مکہ مکرمہ میں مقیم ترک گورنر غالب پاشا سے ملاقاتیں کیں ، اور ترکی کے وزیر جنگ انور پاشا سے بھی ملاقات کی ، جو ان دنوں مدینہ آئے ہوئے تھے ، انہیں ہندوستان کی صورت حال سے آگاہ کیا اور اپنے منصوبے سے واقف کرایا ، ان دونوں نے شیخ الہند رحمہ اللہ کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے ، ان کے منصوبے کی تائید کی اور برطانوی حکومت کے خلاف اپنے اور اپنی حکومت کے تعاون کا یقین دلایا ، مولانا عبید الله سندھی رحمہ اللہ نے کابل سے ریشمی رومال پر جو راز دارانہ خطوط شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمه الله کومکہ مکرمہ روانہ کیے تھے ، ان کو حکومت برطانیہ کے لوگوں نے پکڑ لیا ، یہی شیخ الہند رحمہ اللہ کی گرفتاری کا سبب بنی اور پورے منصوبے پر پانی پھیر دیا ۔ 1916 ء  میں شریف حسین کی حکومت نے ان کو مدینہ منورہ میں گرفتار کر کے انگریزی حکومت کے حوالے کردیا ، شریف حسین نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت اور غداری کی تھی ، وہ برطانوی حکومت کا وفادار دوست تھا اور خلافت عثمانیہ اور مسلمانوں کی تحریک آزادی کا شدید مخالف تھا ۔ ۱۹۱۷ ء میں شیخ الہند رحمہ اللہ اور ساتھوں کو بحیرہ روم میں واقع جزیرہ مالٹا جلاوطن کیا گیا ۔ مولانا حسین احمد مدنی رحم الله مولانا عزیز گل پیشاوری رحمه الله ، مولانا حکیم نصرت حسین رحمہ والله مولانا وحید احمد رحمه الله وغیرہم نے مدتوں اپنے استاد شیخ الہند رحمہ اللہ کے ساتھ مالٹا کے قید خانہ میں سختیاں برداشت کیں ، مالٹا کے قید خانہ میں انگریزوں نے شیخ الہند رحمہ اللہ کے ساتھ ظالمانہ برتاو کیا سخت سے سخت سزائیں دی گئیں ۔ (از مخاطباء جنگ آزادی )


 ۱۹۱۹ ء میں جمعیت علماء ہند کا قیام عمل میں آیا جس کا بنیادی مقصد وطن کی آزادی تھا ، شیخ الہند رحمہ اللہ کی رہائی کے بعد سب سے پہلے ۲۹ جولائی ۱۹۲۰ کوترک موالات کا فتوی شائع کیا گیا ، آپ کی وفات کے بعد آپ کے جاں نثار شاگرد مولا حسین احمد مدنی رحمہ الہ نے آپ کے اس مشن کو جاری رکھا ، مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ الله کی وفات کے بعد ۱۹۴۰ ء سے تادم آخر جمعیت علماء ہند کے صدر رہے ۔ کئی بار برطانوی عدالتوں میں پھانسی کی سزا سے بچے ، آپ انگریزوں کی حکومت سے سخت نفرت رکھتے تھے ۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث کے منصب پربھی فائز تھے ۔ آزادی کے بعد اصلاحی کاموں میں مصروف ہو گئے ، دینی خدمت و تزکیہ نفوس کے مقدس مشن میں لگے رہے ۔


 تحریک خلافت اور ہندو مسلم اتحاد

 ۱۹۱۹ میں جلیاں والا باغ حادثہ ہوا جس میں کئی افراد ہلاک ہوئے ، انہیں ایام میں تحریک خلافت وجود میں آئی جس کے بانی مولانا محمد علی جوہر تھے ، اس تحریک سے ہندو مسلم اتحاد عمل میں آیا ، گاندھی جی علی برادران ( مولانا محمد علی جوہر مولانا شوکت علی ) اور مسلم رہنماؤں کے ساتھ ملک گیر دورہ کیا ، اس تحریک نے عوام اور مسلم علما کو ایک پلیٹ فارم پر کھڑا کر دیا ، الغرض ہندوستان کے اکابر علماء نے سالہا سال کے اختلافات کو نظر انداز کر کے تحریک خلافت میں شانہ بشانہ کام کیا ۔


 تحریک ترک موالات

 ۱۹۲۰ ء میں گاندھی جی اور مولانا ابوالکلام آزاد نے غیر ملکی مال کے بائیکاٹ اور ان کو آپریشن ( ترک موالات ) کی تجویز پیش کی ، یہ بہت کارگر ہتھیار تھا ، جو اس جنگ آزادی اور قومی جد و جہد میں استعمال کیا گیا ، انگریز کی حکومت اس کا پورا پورا نوٹس لینے پرمجبور ہوئی اور اس کا خطرہ پیدا ہوا کہ پورا ملکی نظام مفلوج ہوجائے اور عام بغاوت پھیل جائے ، آثار انگریزی حکومت کے خاتمہ کی پیشینگوئی کر رہے تھے ۔ (ہندوستانی مسلمان : ۱۵۷ )


آزادی

 ۱۹۲۰ ء میں موپلا بغاوت ، ۱۹۲۲ ء میں پولیس فائرنگ ، ۱۹۳۰ ء میں تحریک سول نافرمانی ونمک آندوین ، 1942 ء میں ہندوستان چھوڑ تحریک ( Quit India Movement ) ، 1946 ء میں ممبئی میں بحری بیڑے کی بغاوت کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں پر پولیس فائرنگ کے دوران ہزاروں لوگ شہید ہوئے ، انگریزوں کی قید و بند کے مصائب جھیلے اور کئی گولیوں کا نشانہ پینے والوں کی تعداد شمار سے باہر ہے ۔ ہندو مسلم سب نے مل کر آخری موقع پر انگریزوں کو بھگانے میں کوشش کی مسلمان کو ایک زمانے سے اس جنگ میں شامل تھے ، آج ان کو فراموش کیا جارہا ہے ، بہرحال 15 اگست 1947 کو یہ ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا ، ہندوستان کو طویل جدوجہد کے بعد آزادی کی نعمت حاصل ہوئی ۔


 جب پڑا وقت گلستاں کو تو خوں ہم نے دیا

 جب بہار آئی تو کہتے ہیں ترا کام نہیں


 مگر یہ بھی بڑا قومی المیہ ہے کہ 15 / اگست اور 26 جنوری کے تاریخ ساز اور یادگار قومی دن کے مبارک و مسعود موقع پر جب مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے ، ان کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے تو ان علماء کرام اور مجاہدین آزادیکو  یکسر نظرانداز کر دیا جاتا ہے جنھوں نے ملک کی آزادی کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ، مالٹا اور کالا پانی میں ہر طرح کی اذیتیں جھیلیں اور جان نثاری وسرفروشی کی ایسی مثال قائم کیں جن کی نظیر نہیں ملتی اور ملک کا چپہ چپہ ان کی قربانیوں کا چشم دید گواہ ہے ۔


 پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

 جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے ، باغ تو سارا جانے ہے 


اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی

 نہنگوں کےنشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا 


یوم آزادی کی تیاریاں نہایت اہتمام سے کی جارہی ہیں ، ایسے موقعوں پر عوام میں بھی خاصا جوش وخروش دیکھنے کوملتا ہے لیکن ہماری طبیعت ہے کہ اس وقت بھی غمگین ہے اور ہمارے قلب وجگر پر ایک افسردگی چھائی ہوئی ہے ، ہم سمجھ ہی نہیں پارہے ہیں کہ اس موقع پر جمہوری قانون کے نفاذ کی خوشیاں منائیں یا پھر اس قانون کی ہمارے ملک میں جو دھجیاں اڑائی جاتی ہیں ، اس پر ماتم کریں,  آئین کی اہمیت سے انکار نہیں ، وہ تو تمام ملکی قانون کا منبع ہے ، ہمارے کرب کی وجہ تو یہ ہے کہ جس آئین کی رو سے مذہب و ملت ، ذات پات ، علاقہ اور رنگ نسل کی بنیاد پرکوئی تفریق کے بغیر ملک میں رہنے والے تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کیے جاتے ہیں ، آج ہم ان آئین کی پرواہ کیوں نہیں کرتے ؟ کیوں ہم اس آئین کے یوم نفاذ کی رسمی سی خوشیاں منانے کی تگ و دو میں تو لگے رہتے ہیں لیکن ہر دم اس آئین کی اہانت و تمسخر بنائے جانے کی فکرنہیں کرتے ؟ 


آج اس وقت ملک کے حالات نہایت خراب ، ہمہ تن داغ داغ شد کے مصداق ملک کے زخموں کو کے کر کس پہلو کو بیان کیا جائے ؟ آئے دن ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک کو ہندوراشٹر میں بدلنے کی کوششیں تیز تر ہوتی جارہی ہیں ، کچھ ملک دشمن عناصر ہندوستان کی اقلیتوں کے خلاف نہ صرف عرصہ حیات تنگ کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں ؛ بلکہ انہوں نے چن چن کر مسلمانوں کو اس ملک میں تنہا کرنے اور انہیں پچھڑا ہوا ناکارہ نکما بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں , بھیڑ کے ذریعے قتل کرنے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے, 

وہ آزادی جو ہمارے اسلاف نے حاصل کی تھی اس کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے. 



تبصرے

تحریر کیسی لگی تبصرہ کر کے ضرور بتائیں
اور اپنے اچھے سجھاؤ ہمیں ارسال کریں

جدید تر اس سے پرانی