ہمارے محترم قارئين کو بخوبی معلوم ہے کہ ہم اپنی ساٸٹ پر مغرب کے ان وسائل کو بیان کر رہے ہیں جنہیں اختیار کر کے مغرب نے ساری دنیا خاص طور پر عالم عرب پر اپنے پنجے مضبوط کییے اور اسے اندر ہی اندر کھوکھلا کر کے رکھ دیا

یہ اس سلسلے کا تیسرا حصہ ہے (پہلے اور دوسرے حصہ کا لنک اسی تحریر میں کچھ نیچے ہے آپ ضرور پڑھیں ) جس میں عیسائی مشنری اور تحریک استشراق کی حقیقت کو واضح کیا ہے

مغرب نے پوری دنیا کے اندر ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لٸے اور اپنے مقاصد کو بروۓ کار لانے کے لٸے چار طرح کے وساٸل کو اختیار کیا 1 عیساٸی مشنری 2 استشراق 3 صہیونی تحریک 4 فری میسن کلب۔ ان چاروں طرح کے وسائل کو جاننا ہمارے لٸے بے حد ضروری ہے جنہیں ہم قسط وار بیان کریں گے .

مستشرقین کا طریقہ کار 

مستشرقین

استشراقی تحقیقات کی کئی قسمیں ہیں ، خالص علمی تحقیقی ، خالص دینی کوشش, خالص تجارتی و سیاسی تحقیقات ۔ خالص علمی بحث وتحقیق کا آغاز دسویں صدی عیسوی میں ہوا . تحقیق کرنے والے مستشرقین شروع میں علمی مزاج رکھنے والے تھے ، ان میں حسد وعداوت نہ تھی ، لیکن کلیسا کی سر پرستی کی وجہ سے استشراق کا رجحان یکسر بدل گیا ,  منفی و مشنری رخ اختیار کرلیا ۔ 

مستشرقین اپنی ساری کی ساری کاوش تاریخ اسلام ، اسلامی معاشرہ , تہذیب وتمدن ، اور ادب و ثقافت میں جھول اور کمزوریوں کی تلاش و نشان دہی میں صرف کرتے ہیں ، پھر ہولناک اور ڈرامائی انداز میں پیش کرتے ہیں ، ان کی ذہانت کا پورا مظاہرہ چہرہ اسلام کو بدنما دکھانے میں ہوتا ہے اور اسی طرح اسلامی ممالک کے زعماء اور قائدین کے دماغ میں اسلام اور اسلامی قانون ، نظام و تہذیب کے سرچشموں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں اور اسلام کے مستقبل سے نا امیدی ، حال سے بیزاری اور ماضی سے بدگمانی اس طرح پیدا کردیتے ہیں کہ ان کا سارا جوش وخروش دین کو عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالنے پر منحصر ہو جاتی ہے. 

Also Read 




 مستشرقین جب علمی موضوعات پر بحث کرتے ہیں تو بڑے محقق معلوم ہوتے ہیں ان کا علم خوب چلتا ہے لیکن جب اسلامیات پر کام کرتے ہیں اور قرآن اور پیغمبر اسلام سیدناحضرت صلی الله علیہ وسلم کا تذکرہ آتا ہے تو ان کا علم پنکچر ہو جاتا ہے ، اور ان کی بحث سب و شتم , دجل وفریب , اور جہل میں تبدیل ہوجاتی ہے 

مشہور مستشرقی کارل بروکلمین carl  Brocklemann ) جس کی کتاب the history of Arabic literature یونیورسٹیوں ، کالجوں اور علمی حلقوں میں تاریخ عربي  کا مرجع وماخد سمجھی جاتی ہے ۔ کرال کو علمی حلقوں میں بڑا محقق سمجھا جاتا ہے لیکن جب بات اسلام اور نبی اسلام کی آتی ہے تو یہی محقق زہر گھولتا ہوا نظر آتا ہے اور اس کی تحقیق تلبیس و تضلیل میں بدل جاتی ہے ۔


 مستشرقین کے اثرات


 اس میں دورائے نہیں کہ مستشرقین کی بعض علمی تحقیقات و خدمات بڑی وقیع اور  لائق تحسین ہیں ، انہوں نے ایک طرف مردہ اقوام کی گم شدہ تاریخ کے ایک ایک ورق کو اپنی سعی پیہم اورعرق ریزی سے ایک جگہ جمع کیا اور اس کو قابل مطالعہ بنایا ، دوسری طرف زندہ اقوام کے علوم فنون کو جو مخطوطات اور دستاویزات کی صورت میں دنیا کی مختلف لائبریریوں اور اہل علم کے ذاتی ذخیروں میں محفوظ اگر طاق نسیان بنے ہوئے تھے ، باہر نکالا اور ان کی اصلاح و تہذیب اور شائع کر کے تشنگان علم کی سیرابی کا سامان بہم پہونچایا ۔

 لیکن اسلامی علوم خصوصا سیرت رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم ، تاریخ اسلام ، فقہ اسامی و تفسیر قرآن و حدیث نبوی سے متعلق مسلمانوں کے پرانے علمی وتاریخی سرمایہ کی تلاش اور پھر اشاعت و طباعت کے میدان میں جو جدو جہد کی ہے اس کا اصلی سبب وہ بغض و حسد اور نفرت وعداوت تھی جو وہ اسلام کے خلاف رکھتے تھے مغرب صلیبی جنگوں میں شکستوں سے اچھی طرح جان گیا کہ مسلمانوں کی تمدنی عظمت و شوکت کا راز ان کی دینی آسمانی کتاب قرآن مجید اور ان کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی پاک سیرت اور جامع و ہمہ گی اور آفاقی تعلیمات میں پوشیدہ ہے جوحدیث شریف کی شکل میں موجود ہیں ، لہذا سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت مغربی اہل علم قلم نے مسلمانوں کے دینی ، روحانی اور اخلاقی سرچشموں کو کمزور کرنے اور ان پر ان کے بے مثال اعتماد اور ایمان کو متزلزل اوران کے ذہنوں اور دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے اسلامی ماخذ کو تلاش کر کے شائع کیا . مزید مغربی سامراجی مفادات کی خاطر اسلامی موضوعات پر کتابیں شائع کیں ، ان کتابوں میں مستشرقین نے اسلام کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیاں اور شکوک وشبہات پیدا کیے.  قرآن وحدیث اورحضورصلی الله علیہ وسلم کو خاص طور پر اپنی افتراپردازی ، طعن تشنیع اور تنقید کا نشانہ بنایا ، ان سے مستشرقین نے اپنی زہر آلود تحریروں کے ذریعہ عالم اسلام کے حکمران طبقہ کے دماغوں میں اسلام کے شاندار اور روشن ماضی کی طرف سے بدگمانی ، اس کے حال کی طرف سے بیزاری ، اس کے مستقبل کی طرف سے مایوسی ، اسلام اور رسول الل صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی مآخذ Sources کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کر دیے ۔

 مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابولحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ مغربی مستشرقین کے فکر و فلسفہ کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :۔ 

مسئلہ کا سنگین اور دور رس پہلو یہ ہے کہ مستشرقین اپنی تمام صلاحیتوں کو معقول و غیرمعقول طریقہ پر ان کمزوریوں کی نشان دہی اور ان کو نہایت ہی مہیب شکل میں پیش کرنے میں صرف کرتے ہیں ، وہ خوردبین سے دیکھتے ہیں اور اپنے قارئین کو دوربین سے دکھاتے ہیں ، رائی کا پر بت بنانا ان کا ادنی کام ہے ، وہ اپنے اس کام میں ( یعنی اسلام کی تاریک تصویر پیش کرنے میں ) اس سبک دوستی ، ہنر مندی اور صبر و سکون سے کام لیتے ہیں ، جس کی نظیر ملنی مشکل ہے ۔ وہ پہلے ایک مقصد تجویز کرتے ہیں ، اور ایک بات طے کر لیتے ہیں کہ اس کو ثابت کرنا ہے . پھر اس مقصد کے لیے ہر طرح کے رطب و یابس, مذہب و تاریخ ، ادب ، افسانہ شاعری مستند و غیرمستند ذخیرہ سے مواد فراہم کرتے ہیں ، اور جس سے ذرا بھی ان کی مطلب برآری ہوتی ہو ( خواه وه صحت و اسناد کے اعتبار سے کتنا ہی مجروح و مشکوک اور بے قیمت ہو ) اس کو بڑے آب و تاب سے پیش کرتے ہیں ، اور اس متفرق مواد سے ایک نظریہ کا پورا ڈھانچہ تیار کر لیتے ہیں ، جس کا اجتماعی وجود صرف ان کے ذہن میں ہوتا ہے ، وہ اکثر ایک برائی بیان کرتے ہیں اور اس کو دماغوں میں بٹھانے کے لیے بڑی فیاضی کے ساتھ اپنے ممدوح کی دس خوبیاں بیان کرتے ہیں ، تا کہ پڑھنے والے کا ذہن ان کے انصاف ، وسعت قلب اور بے تعصبی سے مرعوب ہو کر اس ایک برائی کو ( جو تمام خوبیوں پر پانی پھیر دیتی ہے ) قبول کرلے .

 اکثر مستشرقین اپنی تحریروں میں زہر کی ایک مناسب مقدار رکھتے ہیں ، اور اس کا اہتمام کرتے ہیں کہ وہ تناسب سے بڑھنے نہ پائے اور پڑھنے والے کو تنفر اور بدگمان نہ کردے ، ان کی تحریریں زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں ، اور ایک متوسط آدمی کا ان کی زد سے بچ کر نکل جانا مشکل ہے ۔ قرآن ، سیرت نبوی ، فقه و کلام ، صحابہ کرام ، تابعین ، ائمہ مجتہدین ، محدثین وفقہاء ، مشائخ وصوفیہ ، رواۃ حدیث ، فن جرح و تعدیل ، اسماء الرجال ، حدیث کی حجیت ، تدوین حدیث , فقه اسلامی کا ارتقاء ان میں سے ہر موضوع سے متعلق مستشرقین کی کتابوں اور تحقیقات میں اتنا تشکیکی مواد پایا جاتا ہے جو ایک ایسے ذہین و حساس شخص کو جو اس موضوع پر وسیع و گہری نظر نہ رکھتا ہو پورے اسلام سے منحرف کر دینے کے لئے کافی ہے.

مستشرقین کی قسمیں


فکر و نظر, کد و کاوش, اور تحقیق و جستجو کے اعتبار سے مستشرقین کو دو اہم گروپ میں تقسیم کیا گیا ہے جنہیں ذیل میں مختصراً بیان کیا جاتا ہے 
1 انصاف پسند مستشرقین.  2 متعصب اور خطرناک مستشرقین. 
1 انصاف پسند مستشرقین: میں ہارڈرین رونالڈ کا نام سر فہرست ہے انہوں نے دین محمدی کے نام سے لاطینی زبان میں کتاب لکھی تھی لیکن کلیسائے یورپ نے اس پر پابندی عائد کر دی. اسی طرح اس فہرست میں 2 یونان رسک پہلا جرمن مستشرق ہے 3 آمس آرنلڈ 4گوستاؤ لینا 5 اسٹین لی لیں پول 6ایڈورڈ ولیم قابل ذکر ہیں 

2 متعصب اور خطرناک مستشرقین : میں گولڈزیہر ہنگری کا یہودی ہے علمی بد دیانتی بغض و عداوت میں مشہور بلا اختلاف یورپ میں اسلامیات کا لیڈر سمجھا جاتا ہے  . 
اس فہرست میں 2 جان مائی بورڈ 3 ایس ایم زویمر  4 جوزف شاخت 5 بلاشیر قابل ذکر ہیں. 

مستشرقین کی علمی و تصنیفی خدمات 

بے شمار مراجع و مآخذ سمجھی جانے والی کتابیں مستشرقین کی کدوکاوش سے منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئیں ہیں ان سب کو اس مختصر سے کالم میں بیان کرنا بڑا مشکل ہے کچھ درج کی جاتی ہیں :- 
1 مبرد کی الکامل 
2 ابن الندیم کی الفھرست 
3 تاریخ ابن الفداء لاطینی زبان میں پانچ جلدوں میں 
4 مشکوۃ المصابیح کا انگریزی ترجمہ کلکتہ سے 
5 امام ذھبی کی طبقات الحفاظ وغیرہ 
قابل ذکر ہیں. 

نوٹ : أگلے حصہ میں ہم صہیونی تحریک کے بارے میں  بیان کریں گے

 

تبصرے

تحریر کیسی لگی تبصرہ کر کے ضرور بتائیں

جدید تر اس سے پرانی