مسجد اقصی کس کی میراث ہے

 مسجد اقصٰی یا بیت المقدس اس وقت ایک سلگتا ہوا موضوع ہے اور اس موضوع پر ہر شخص اپنی اپنی بات کہہ رہا ہے , سیکولر لابی وہ یہود کی ترجمان بن کر یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر امت مسلمہ کو یہود کا موقف سمجھنا چاہیے کہ وہ ان کا آبائی وطن ہے , یہود ایک نسلی گروہ ہیں ہزاروں سال پہلے وہ یہاں آباد تھے, انہیں ظلم و جبر کے ذریعے یہاں سے نکالا گیا, اور طویل جد و جہد کے ذریعے انہوں نے وہ زمین دوبارہ حاصل کر لی. اب انہیں وہاں پر پورا اختیار حاصل ہے اور  فلسطینیوں کے ساتھ وہ وہاں جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ اس میں برحق ہیں, اس لئے کہ فلسطینیوں کا وہاں پر کوئی حق نہیں اور بیت المقدس پر امت مسلمہ کا کوئی حق نہیں, یہ مسلمانوں کی زیادتی ہے اور یہود یہاں پر مظلوم ہیں, 

یہ بیانیہ ہے جو چل رہا ہے اس بیانیہ میں کتنی حقیقت ہے .

بنیادی بات یہ ہے کہ مسجد اقصٰی بیت المقدس کیا وہ زمین یہودیوں کی ہے ؟ یہودیوں کی دلیل اور اس سلسلے میں ان کی دلیلوں کا لب لباب یہی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ہزاروں سال پہلے یہاں آباد تھے, آئیے ہم اس بارے میں دیکھتے ہیں کہ تاریخ اس بارے میں کیا کہتی ہے , آخر میں میں آپ کو بتاؤں گا کہ قرآن اس بارے میں کیا کہتا ہے جو ہمارا ایمان ہے, چونکہ وہ تاریخ سے مدد لیتے ہیں اس لئے ہم بھی پہلے تاریخی پہلو کو پیش کریں گے تاکہ ان کا جواب مکمل ہو جائے. 


خطہ فلسطین وہ خطہ ہے جہاں ایک زمانے میں حضرت یعقوب علیہ السلام جن نام اسرائیل تھا ان کے بارہ بیٹے یہاں آباد ہوئے , چونکہ ان کا علاقہ فلسطین تھا اس لئے وہ اسی علاقہ میں آباد ہوئے, ان ہی بارہ بیٹوں کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے, اور نسلی یہودی وہ ہیں جو ان بارہ بیٹوں کی اولاد سے ہیں, اب دنیا میں جہاں جہاں یہود پھیلے ہوئے ہیں کتنے فیصد ہیں جو یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ ان کی اولاد سے ہیں یہ بہت مشکل ہے,  اس کے مقابل میں یہ بالکل ثابت ہے کہ دنیا بھر سے لا کر جو یہودی اس خطے میں بسائے گئے ان کی اکثریت کا  اس نسل سے کوئی تعلق رہا ہی نہیں, کچھ روس کے لوگ تھے یوکرائن کے لوگ تھے پولائنڈ کے تھے, جنہوں نے صدیوں پہلے یہودیت قبول کرلی اور ان کے ذریعے یہودیوں کی تعداد بڑھی اور نسلی یہودیوں پر غالب آ گئی, 

انہیں یہودیوں کو ایک صدی پہلے فلسطین میں لاکر بسانے کی ناپاک کوشش کی گئی , اس سے پہلے انہوں نے جو زمانہ روس اور اسپین میں گزارا اس دوران ان کے دوسرے اقوام سے رشتے ناطے بھی چلتے رہے اور موجودہ یہودیت میں اکثریت انہیں یہودیوں کی ہے, اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں والے یہود وہ تو محض چند فیصد ہیں, اور ان میں بھی خالص نسل ان کی نہیں ہے کیونکہ وہ جہاں جہاں بھی گئے انہوں نے دوسری اقوام سے رشتے ناطے قائم کیے, اپنی لڑکیاں دیں اور دوسری کی لڑکیاں لیں جس سے وہ خود بھی مخلوط قوم بن گئے اگر اس کی عملی تصویر آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ ازرائیل کےیہودیوں کی شکلیں دیکھ لیں اور  گوگل پر سرچ کر لیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ ان کی شکلیں ان کے رنگ و روپ میں بڑا فرق ہے کوئی یورپین ماڈل معلوم ہوتا ہے کوئی یونانی کوئی آئرش کوئی پورش حتی کہ ان کے اندر ترکی اور ہندی خد و خال بھی نظر آجائیں گے تو اب یہ بات تو واضح ہوگئی کہ جو یہود ہزاروں سال پہلے یہاں آباد تھے وہ اب نہیں رہے یا ہیں بھی تو بہت تھوڑی تعداد میں اور وہ بھی مخلوط ہیں جن کا ان کی نسل سے کوئی تعلق نہیں, یہ تو اس کا تاریخی پہلو تھا لیکن اس سلسلے میں قرآن کیا کہتا ہے آئیے دیکھتے ہیں, 


سورہ انبیاء کے آخر میں حق تعالیٰ فرماتا ہے 


وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ(۱۰۵)

ترجمہ:

اور بےشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے


ایک قول یہ ہے کہ زبور سے وہ آسمانی کتاب مراد ہے جوحضرت داؤد عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پرنازل ہوئی اور ذکر سے مراد تورات ہے، اور آیت کا معنی یہ ہے کہ تورات میں  لکھنے کے بعد زبور میں  لکھ دیا۔


{اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ:کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں  گے۔}  ایک قول یہ ہے کہ اس سے شام کی زمین مراد ہے جس کے وارث  اللہ تعالیٰ کے وہ نیک بندے ہوں  گے جو اس وقت شام میں  رہنے والوں  کے بعد آئیں  گے۔( الانبیاء، )


 امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اس وعدے کا ایفا خلفائے راشدین کے دور میں ہوا کہ وہ سر زمین جو یہود کے پاس تھی ان کی بدبختیوں کی وجہ سے بازنطینیوں کے قبضے میں چلی گئی اور پھر مسلمانوں نے اسے حاصل کر لیا اور پھر وہاں اسلام کا عدل قائم ہوا 


مورخین اسلام نے لکھ رکھا ہے کہ مسجد اقصی کی تعمیر میں حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھی حصہ لیا تھا۔مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اب یہودی مسلمانوں سے مسجداقصی کے زیادہ حق دار ہیں ۔ یعقوب علیہ السلام موحد اورتوحید پرست تھے اوریہودی توریت میں تحریف کرنے کی وجہ سے مشرک ہو چکے۔لہذا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہودی مشرک اس میں کچھ بھی حق رکھیں۔ویسے بھی انبیا کی دعوت نسلی نہیں بلکہ تقویٰ پرمشتمل ہوتی ہے۔


القدس شریف میں اب یہودیوں کا کچھ حصہ نہیں ہے اس لیے کہ یہ علاقہ دووجوہ کی بنا پر مسلمانوں کی ملکیت بن چکا، اگرچہ پہلے وہاں یہودی رہتے رہے ہیں :


1 – اس لیے کہ یہودیوں نے کفرکا ارتکاب کیا۔ بنی اسرائیل کے مومنوں کے دین پہ جنہوں نے موسی علیہ السلام کی پیروی واتباع کیا اوران پرایمان لائے اوران کی مدد کی… یہود ان کے دین پرواپس نہیں آئے اوران کی شریعت پرعمل نہیں کیا۔


2 – مسلمان دور جدید کے یہود سے اس جگہ کا زیادہ حق رکھتے ہیں ۔ اس لیے کہ زمین پہلے رہائش اختیارکرنے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ زمین کا مالک تووہی بنتا ہے جواس میں حدوداللہ کا نفاذ کرے اوراس میں اللہ تعالی کے حکم کوچلائے۔ وہ اس لیے کہ زمین اللہ تعالی نے پیدافرمائی اورانسانوں کو اس لیے پیدا فرمایا کہ وہ اس زمین پررہتے ہوئے اللہ تعالی کی عبادت کریں اوراس میں اللہ تعالی کا دین اورشریعت و حکم نافذ اورقائم کریں۔اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :


{ ’’یقیناً زمین اللہ تعالی کی ہی ہے۔ وہ جسے چاہے اپنے بندوں میں سے اس کا وارث بنا دے اورآخر کامیابی انہیں کوہوتی ہے جومتقی ہیں۔ ( الاعراف ۔ 128 )۔


اسی لیے اگرکوئی عرب قوم بھی وہاں ایسی آجائے جو کہ دین اسلام پرنہ ہوں اوروہاں کفرکا نفاذ کرنے لگے تواس سے بھی جہاد کیا جائے گا حتی کہ وہاں اسلام کا حکم نافذ ہو جائے۔غرض یہ معاملہ نسلی اورمعاشرتی نہیں بلکہ توحید و اسلام کا معاملہ ہے۔اس ضمن میں ہم ایک فاضل مقالہ نگار کی تحریر پیش کرتے ہیں:


’’تاریخ اس بات کی شاہدہے کہ فلسطین میں سب سے پہلے بودوباش اورسکونت اختیارکرنے والے کنعانی تھے ، جنہوں نے چھ ہزارسال قبل میلاد وہاں رہائش اختیار کی۔یہ ایک عرب قبیلہ تھا اورجزیرہ عربیہ سے فلسطین میں آیا ۔کنعانیوں کے آنے کے بعد ان کے نام سے اسے فلسطین کا نام دیا گیا۔‘‘ (دیکھیں کتاب : الصیھونیتہ نشاّتھا تنظیماتھا ، انشتطھا۔ تالیف : احمد العوضی ص 7 )۔


’’اوریہودی تو یہاں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آنے کے تقریبا چھ سو سال بعد آئے ہیں۔ یعنی اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہودی فلسطین میں پہلی مرتبہ چودہ سوسال قبل میلاد میں آئے۔اس طرح کنعانی یہودیوں سے چار ہزار پانچ سوسال پہلے فلسطین میں داخل ہوئے اوراسے اپنا وطن بنایا۔‘‘ (دیکھیں درج بالا کتاب صفحہ نمبر 8 )۔


اس طرح یہ تایخی طورپربھی یہ ثابت ہے کہ فلسطین میں یہودیوں کا نہ تو اب کوئی حق ہے اورنہ ہی ان پہلے کو حق حاصل تھا۔ ، اورنہ کوئی شرعی اوردینی حق ہے اور نہ ہی قدیم رہائشی اورمالک ہونے کے اعتبارسے ہی حق ہے۔بلکہ یہ لوگ غاصب اورظالم ہیں۔


 جب یہ سرزمین اللہ کے نیک بندوں کے لئے ہے پہلے بھی یہاں اللہ کے نیک بندے آباد تھے یہ انبیاء کا مدفن ہے اور مھبط وحی ہے اور ہر زمانے میں یہ اللہ کے نیک بندوں کی عبادت کا مرکز رہا ہے تو یہاں پر دنیا کے شریر ترین لوگ بدبخت ترین لوگ جن کے مکر و فریب سے ساری دنیا تنگ تھی اور آج بھی تنگ ہے جنہیں ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے اگر انکی کہیں عزت کی جاتی ہے تو بس انکی دولت اور ان کے سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر تو ایسے بدبختوں کو یہ سر زمیں کیسے دی جا سکتی ہے جب ہم کوئی عام مسجد کسی فاسق و فاجر کے حوالے نہیں کرتے تو مسجد اقصٰی کو یہود کے حوالے کیسے کیا جا سکتا ہے سیکولر لابی اس کا اپنا جو بیانیہ ہے وہ اپنے پاس رکھے ہم قرآن کے مطابق چلیں گے اور حق کے ساتھ چلیں گے اور باطل اپنےمکر و فریب کے ساتھ دفن ہو جائے ان شاء اللہ 

مزید جانیں

مسئلہ فلسطین, اسرائیل, حماس, اور موجودہ حالات - بے حد اہم تجزیہ

تبصرے

تحریر کیسی لگی تبصرہ کر کے ضرور بتائیں

جدید تر اس سے پرانی