Orientalism

جیسا کہ ہمارے محترم قارئين کو بخوبی معلوم ہے کہ ہم اپنی ساٸٹ پر مغرب کے ان وسائل کو بیان کر رہے ہیں جنہیں اختیار کر کے مغرب نے ساری دنیا خاص طور پر عالم عرب پر اپنے پنجے مضبوط کییے اور اسے اندر ہی اندر کھوکھلا کر کے رکھ دیا

یہ اس سلسلے کا دوسرا حصہ ہے (پہلے حصہ کا لنک اسی تحریر میں کچھ نیچے ہے آپ ضرور پڑھیں ) جس میں تحریک استشراق کی حقیقت کو واضح کیا ہے

مغرب نے پوری دنیا کے اندر ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لٸے اور اپنے مقاصد کو بروۓ کار لانے کے لٸے چار طرح کے وساٸل کو اختیار کیا 1عیساٸی مشنری 2 استشراق 3 صہیونی تحریک 4 فری میسن کلب۔ ان چاروں طرح کے وسائل کو جاننا ہمارے لٸے بے حد ضروری ہے جنہیں ہم قسط وار بیان کریں گے 


استشراق 


Orientalism  


استشراق کی تعریف 

استشراق کامشتق منه ”شرق “ ہے جو غرب کا مقابل ہے لہذا اس اعتبار سے اس کے لغوی معنی مشرق ( مشرقی ممالک کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے ہیں

مشرق میں ایشیاٸی اور افریقی مالک آتے ہیں اور مغرب میں یورپی اور امریکی ممالک آتے ہیں مشرقی باشندوں کی اکثریت کا مذہب دین اسلام ہے ، یہ اقتصادی اعتبار سے پسماندہ ہیں اور سیاسی اعتبار سے سامراج اور غلامی کا شکار ہوتے رہے ہیں ، جبکہ مغرب کے باشندوں کی اکثریت کامذهب نصرانیت ہے ، یہ اقتصادی اعتبار سے خوش حال ہیں اور سیاسی اعتبار سے سامراجی اور تخریبی نظریات رکھتے ہیں ۔ 

Also Read

نکسل واد یا نکسل ازم / ماؤ واد یا ماؤ ازم کیا ہے. تہلکہ خیز انکشاف


عیساٸی مشنری کیا ہے عالم اسلام پر اس کا اثر و رسوخ کیسا اہم رپورٹ


Also Read


ہٹلر کون تھا : ﺧﻮﺑﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﺗﮭﺎ


 ویلنٹائن ڈے کے حقیقت اور اسلامی نقطہ نظر ایک بہت ہی اہم معلومات

علمی اصطلاح میں استشراق ایک علمی تحریک ہے جس کا خصوصی مرکز توجہ اسلام اسلامی تہذیب و تمدن اور مشرقی علوم ہے ۔ 



استشراق کی تعریف مختلف ادوار میں مختلف اسکورلز نے مختلف الفاظ و پیراۓ میں بیان کی ہے جس میں سے کچھ اہم تعریفات ذیل میں درج کی جاتی ہیں اور تعریفات کے اخیر میں اس کا خلاصہ بھی بیان کیا جاۓ گا جس سے پوری حقیقت آپ قارئين کے سامنے واضح ہو جاۓ گی۔



  1- ڈاکٹر ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب " الاستشراق ‘ ‘ میں اور شکری نجار نے اپنے ایک مضمون " لم الاهتمام بالاستشراق ؟ ( استشراق پر توجہ کیوں ؟ ) میں لکھا ہے کہ استشراق مشرقی ممالک پر کنٹرول اور حکمرانی کرنے ، یہاں کے ذخائر ومعدنیات اور قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کا ایک مغربي حربہ اور سامراجی طریقہ ہے ۔ 



2-  ڈاکٹر فتح الله زیادی کی رائے میں استشراق اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے ، اسلامی عقائد مسلمات کے متعلق ذہنوں اور دلوں میں شک و شبہ پیدا کرنے اور دین اسلام کے بنیادی مآخذ کو کمزور کرنے کی ایک علمی تحریک ہے


3- اسلامی مفکر مالک بن نبی اپنی کتاب " إنتاج المستشرقين وأثره في الفكر الاسلامی میں رقمطراز ہیں کہ مستشرقین سے مراد وہ اہل علم و قلم ہیں جو فکر اسلامی اور اسلامی تہذیب و تمدن کو اپنی بحث وتحقیق کا موضوع بناتے ہیں ۔


 4- مشہور محقق محمد علی کرد کہ ہیں کہ مستشرقین وہ لوگ ہیں جو مشرق کے علوم اور اس کی زبان پر بحث کرتے ہیں ۔


 تعریفات کا خلاصہ

درج بالا تعریفات کا نچوڑ یہ ھیکہ مستشرقین Orientalist ان مغربی اور یورپی علماء و فضلاء اور محققین وباحثین کو کہتے ہیں جنہوں نے مشرقی اقوام خصوصا مسلمانوں اور عربوں کے علوم و فنون اور مشرقی ( اسلامی وعربی ) ممالک کے دینی ، تہذہبی ، اقتصادی ، سیاسی ، سماجی اور جغرافيائی احوال کو اپنی تحقیقات کا موضوع بنایا ، اسلام اور مسلمانوں کے متعلق ذہنوں اور دلوں  میں شکوک و شبہات پیدا کردئے اور اسلامی سرچشموں اور ماخذ کو کمزور کر دیا ۔ 


استشراق کا آغاز


 استشراق کی تاریخ بہت پرانی ہے ، اس کی ابتدا کے بارے میں محققین کی اقوال مختلف ہیں ، ڈاکٹر محمود حمدی اور ڈاکٹر میثال حجا نے لکھا ہے کہ استشراق کی ابتدائی تاریخ کی تحدید ہی مشکل ہے ۔ 


بعض محققین کی رائے ہے کہ استشراق کا آغاز اسپین میں اسلامی عہد سے ہوا ۔ جب کہ دوسرے محققین کی رائے میں اس کا آغاز صلیبی جنگوں ( ۱۰۹٧-۱۲۹۵ء ) کے دوران ہوا ، اسی دوران مغرب کا مشرق سے اتصال ہوا ، 


جان گبن نے صراحت کی ہے کہ یورپ صلیبی جنگوں کے دوران مشرق سے واقف ہوا اور یہیں سے علوم مشرقیہ کی تحقیق اور مطالعات اسلامی کی بنیاد پڑی ۔ 



ڈاکٹر عبدالعظیم مطعنی نے اپنی کتاب " أوربا في وجه الاسلام“ میں لکھا ہے کہ استشراق کا آغاز صلیبی جنگوں کی ناکامی کے بعد ہوا ۔ یہ حقیقت ہے کہ شروع میں استشراق کا مقصد علوم اسلامیہ کو یوروپی زبانوں میں منتقل کرنا تھا ، لیکن صلیبی جنگوں میں ناکامی کے بعد مغرب نے اس کی تحریک کو مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے اختیار کیا ، جیسا کہ لوئی نہم نے منصورہ میں ١٢٥٠ میں شکست کھانے کے بعد اپنی وصیت میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کو میدان جنگ میں شکست دینا ناممکن ہے ۔ کیونکہ وہ جہاد ، فدائیت ، جان نثاری اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہیں، لہذا جنگ کے طریقے کو چھوڑ کرعلم کے راستے سے مسلمانوں پر حملہ کیا جائے ، دین و عقیدہ کے متعلق ان کے اندر شکوک و شبہات پیدا کر دیے جائیں ، اور ان کے جذبہ ایمانی و جذبہ جہاد و قربانی کو کمزور بلکہ ختم کردیا جائے ۔ 


انفرادی اور اجتماعی استشراقی جد و جہد اور کلیسا کی سر پرستی


شروع شروع میں تحریک استشراق کو فروغ دینے کے لٸے انفرادی طور پر کوششيں کی گٸیں جربرٹ دی اورلیاک پہلا شخص ہے جس نے خفیہ طور پر اندلس جا کر علوم اسلامیہ حاصل کیے اور اشبیلیہ اور قرطبہ کے استاتذہ فن سے کسب فیض کیا ۔ اندلس سے واپسی پر اسے روم کے کلیسا کا پوپ منتخب کیاگیا۔

اس کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگوں نے انفرادی طور کو تحریک کوزندہ رکھنے کی کوششيں کی جن میں سر فہرست طلیطلہ کے اسقف اعظم ریمنڈلل ، یہودی مشنری جان سیوالا ، اور اٹلی نژاد جیراڈ دی کریمون قابل ذکر ہیں۔

 

یہ انفرادی کوششيں اس وجہ سے تھیں کیونکہ ابھی تک کلیسا کی علم پر بالا دستی قاٸم تھی ، علم حاصل کرنے والے کو مجرم کی فہرست میں رکھا جاتا تھا بلکہ بعض مغربی اہل علم تو علم حاصل کرنے کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتار دیے گٸے لیکن حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوۓ اور پوری دنیا پر سامراجی نظام غالب کرکے مسلمانوں کو زیر کے لٸے بعض پادریوں نے پاپ اعظم کے سامنے دو تجاویز پیش کیں :  1- کلیسا علم حاصل کرنے کی اجازت دے اور اس کے ادارے قاٸم کرے جس کے ذریعہ عیساٸیت کی تبليغ و اشاعت کی جاۓ۔ 2- مسلمانوں کو عیساٸی بنایا جاۓ  خوا اس کے لٸے طاقت استعمال کرنی پڑے ۔

پوپ نے اس منصوبے کو قبول کر لیا اس کے بعد استشراق نے خطرناک شکل اختیار کر لی ۔ ہر طرف اسکولوں اور یونيورسٹيوں کا تانتا لگ گیا ، 

عیساٸیوں کے مرکز ویٹی کن سٹی میں عربی ، عبرانی ، اور کلدانی زبانوں کے شعبے قاٸم کیے گٸے اور مشرقی مذاہب و علوم پر مشتمل کتابوں کا ایک کتب خانہ قاٸم کیا گیا  پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس تحریک نے ترقی کی اور اسلامی علوم کے اندر نقب زنی شروع کر دی اور اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا 

مزید جانیں 

قیامت کی اہم نشانیاں (صغری اور کبری) قرآن و حدیث کی روشنی میں 

حرام چیزیں باعث مضرت ہیں اور حلال چیزیں باعث راحت


 اس تحریک نے اسلامی تہذیب پر بڑے گہرے زخم لگاٸیں ہیں اگلے حصہ میں ہم اس طریقہ کار اور وسائل و محرکات کے بارے میں بیان کریں گے۔

تبصرے

تحریر کیسی لگی تبصرہ کر کے ضرور بتائیں

جدید تر اس سے پرانی