قربانی  کتنے دن؟  Qurbani kitne din


قربانی  کتنے دن؟

سوال :   قربانی کے ایام تین دن ہیں یا چاردن؟ صحیح قول سے مطلع فرمائیں۔ 

جواب:   اس بارے میں صحیح اور راجح قول یہ ہے کہ ہدی اور قربانی کے ایام چار دن ہیں: 10، 11، 12، 13، ذی الحجہ، اور دسویں ذی الحجہ کو نماز عید کے بعد سے لے کر ١٣ /ذ ی الحجہ کو سورج غروب ہونے سے قبل تک قربانی اور ہدی کے جانور ذبح کرسکتے ہیں، دسویں ذی الحجہ تو بالاتفاق یوم النحر ہے، اور ایام تشریق کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: 
 ”كُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ“(1) 
 تشریق کے تمام ایام ذبح کے ہیں۔ 
 
اور ایام تشریق سے مراد بالاتفاق 11، 12، 13،ذی الحجہ کے ایام ہیں، حدیث: ”كُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ“ حضرت جبیر بن مطعم، حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے اور مجموعی طورپر صحیح اور قابل استدلال ہے، امام ابن حبان، امام شوکانی، علامہ مبارک پوری، علامہ البانی اور دیگر محققین علماء نے اس کی تصحیح کی ہے اور قابل استدلال قرار دیاہے، اور استاد محترم مولانا رئیس احمد ندوی حفظہ اللہ نے اس موضوع پر ایک رسالہ بھی تحریرفرمایاہے، جس میں تمام احادیث پر تفصیلی بحث کی ہے اور اس مسئلہ کو مدلل طور پر ثابت کیا ہے، جس کو تفصیل مطلوب ہو وہ جامعہ سلفیہ بنارس سے یہ رسالہ منگاکر مطالعہ کرسکتا ہے۔


سوال :    کیا قربانی کرنے کے لئے صرف تین دن ہیں یعنی 10، 11، 12، ذی الحجہ؟ یا چوتھے دن ١٣ /ذی الحجہ کو بھی قربانی کرسکتے ہیں؟  
 بعض لوگ کہتے ہیں کہ چوتھے دن قربانی کرناجائز نہیں، اس واسطے جواب مدلل دیجئے، اور دوسرے قول کی کیا دلیلیں ہیں، اور ان کا کیا جواب ہے، اس کو بھی بیان فرمائیے تو نوازش ہو گی۔ 

جواب:   میرے نزدیک راجح یہ ہے کہ قربانی چار دن تک کرسکتے ہیں،( 10، 11، 12، 13، ذی الحجہ) کیونکہ دسویں ذی الحجہ کو قربانی کرنا تو بالاجماع جائز ہے، اور وہ یوم النحرہی ہے، باقی رہا تین دن کی قربانی کا جواز تو حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 
 ”كُلُّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ“ 
 ایام تشریق کے تمام دن ذبح کے ہیں۔  

 اس کی تخریج امام احمد بن حنبل(1)، ابن حبان(2)، دارقطنی (3)،بزار(4) اور بیہقی(5) وغیرہ نے کی ہے، اور بہت سے محدثین کرام نے تعدد طرق اور متابعات و شواہد کی بنا پر بجا طور پر اس کی تصحیح کی ہے، اور قابل استدلال گرداناہے، اس واسطے کہ اس کی سندوں پر جوکلام ہے وہ انقطاع یا بعض راویوں کے معمولی ضعف کی وجہ سے ہے، ان کے کذاب یا وضاع ہونے کی وجہ سے نہیں، پھر اس کے متابعات اور شواہد بھی ہیں، جس سے حدیث صحیح یا علی الاقل حسن کے درجہ تک پہونچ جاتی ہے۔  

 چنانچہ علامہ ابن القیم  زاد المعاد:(2/ 319) میں فرماتے ہیں کہ حضرت علی  نے فرمایا: قربانی کے ایام یوم النحر اور اس کے بعد تین دن ہیں، یہی امام اہل بصرہ حضرت حسن بصری، امام اہل مکہ حضرت عطاء بن رباح، امام اہل شام حضرت اوزاعی، امام فقہاء       اہل حدیث، امام شافعی کا مذہب ہے، اور اسی کو علامہ ابن المنذر نے اختیار کیا ہے، اس واسطے کہ عید کے بعد تینوں دن ایام منیٰ، ایام رمی اور ایام تشریق ہیں اور تینوں دنوں میں روزہ رکھنا حرام ہے، اور جب یہ ایام ان احکام میں برابر ہیں تو بغیر کسی نص یا اجماع کے ذبح کے معاملہ میں علیحدہ اور مختلف کیسے ہوجائیں گے؟ حالانکہ دو مختلف طریقوں سے جو ایک دوسرے کے مؤید ہیں نبی ﷺ سے مروی ہے کہ منیٰ قربانی کرنے کی جگہ ہے اورتمام ایام تشریق قربانی کے ذبح کے ایام ہیں، ایک حضرت جبیر بن مطعم کی حدیث، جس میں انقطاع ہے اور دوسری اسامہ بن زیدکی حدیث ”عطا ء عن جابر“ کے طریق سے، یعقوب بن سفیان نے کہا کہ اسامہ بن زید اہل مدینہ کے نزدیک ثقہ اور مامون ہیں۔ 
 اور حافظ ابن حجر العسقلانی فتح الباری:(10/ 8) میں فرماتے ہیں: 
 ”وَحُجَّةُ الْجُمْهُورِ حَدُيْثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَفَعَهُ فِجَاجُ مِنًى مَنْحَرٌ وَفِي كُلِّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذَبْحٌ أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ لَكِنْ فِي سَنَدِهِ انْقِطَاعٌ وَوَصَلَهُ الدَّارَ قُطْنِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ“ 
 جمہور کی دلیل جبیربن مطعم  کی مرفوع حدیث ہے کہ:”منیٰ کے پہاڑوں کے درمیان کی جگہیں اور راستے قربان گاہ ہیں، اور تمام ایام تشریق ذبح کے دن ہیں“۔ 
  اس کی تخریج امام احمد نے کی ہے، لیکن اس کی سند میں انقطاع ہے، اور امام دارقطنی نے اسے موصولاً روایت کی ہے، اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں۔ 


اس سائٹ کی دوسری مشہور تحریریں 

کلک کرکے ضرور پڑھیں 


آیا صوفیہ مسجد کی تاریخی حقیقت- دلائل کے آئینے میں

 اور علامہ ابن حجر الہیثمی فرماتے ہیں: ”حاصل کلام یہ ہے کی حدیث کے متعد دطرق ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں، اس واسطے یہ حسن اور قابل استدلال ہے، یہی قول ابن عباس  اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم کا ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے، اور یہی بہت سے تابعین کا بھی قول ہے، اس واسطے جس نے یہ کہا کہ اس میں امام شافعی  منفرد ہیں اس نے غلطی کی۔(6) 
 اور علامہ شوکانی فرماتے ہیں: ”جبیر بن مطعم  کی حدیث کی تخریج ابن حبان نے اپنے صحیح میں اور بیہقی نے کی ہے اور اس کی اسناد میں اختلاف ذکر کیا ہے اور اس کی روایت ابن عدی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے کی ہے اور اس کی سند میں معاویہ بن یحیی الصدفی ہے جو ضعیف ہے، اسے ابن ابی حاتم  نے ابو سعید کی حدیث سے ذکرکیا ہے اور اپنے والد سے یہ نقل کیا ہے کہ یہ موضوع ہے، اور ابن القیم نے کہا کہ جبیر بن مطعم کی حدیث منقطع ہے، اس کا موصول ہونا ثابت نہیں، اور اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ابن حبان نے اسے موصولا ًروایت کی ہے اور اپنے صحیح میں ذکر کیا ہے“۔ 
 پھر اس مسئلہ کے متعلق علماء کے پانچ اقوال ذکر کئے اور فرمایا: 
 ”ان میں سب سے راجح اس باب میں مذکور احادیث کی وجہ سے پہلا مذہب ہے، یہ حدیثیں ایک دوسرے کو تقویت پہونچاتی ہیں“۔(7) 

 معاصرین علماء میں سے اس حدیث کی تصحیح ہندوستان کے مایۂ ناز محدث علامہ عبید اللہ رحمانی مبارک پوری نے مرعاة المفارتیح (5/ 108) میں اور محدث کبیر علامہ ناصر الدین الالبانی نے صحیح الجامع الصغیر وزیادتہ (4/ 176[4413]) اور مناسک الحج والعمرة: ص٣٥میں، اور شعیب الارنوؤط وعبدالقادر الارنوؤط نے زاد المعاد (2/ 318) کی تعلیق میں کی ہے۔ 
 اس مذہب کے قائل امام شافعی، امام احمد بن حنبل، (فی روایۃ عنہ) عطا، اوزاعی، حسن بصری، عمر بن عبد

العزیز، سلیمان بن موسی الاسدی  فقیہ اہل الشام، مکحول، ابن المنذر، ابن تیمیہ، ابن القیم اور دیگر علماء حدیث ہیں۔ 
 نیز یہ قول حضرت علی، حضرت ابن عباس اور حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، اس واسطے جو لوگ حضرت جبیر بن مطعم  کی حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کی اس پر کسی صحابی کا عمل نہیں، وہ سراسر غلط اور ساقط الاعتبار ہے، اس لئے کہ مذکورہ بالا صحابہ کرام وتابعین عظام اور علماء امت نے اس کو اختیار کیا ہے، علاوہ ازیں صحابہ کرام  کا کسی حدیث پر عمل نہ کرنا اس وقت تک قادح نہیں جب تک کہ وہ صراحت نہ کردیں کہ اس پر عمل جائز نہیں۔  
 جو ائمہ کرام یہ کہتے ہیں کہ قربانی کے صرف تین دن ہیں وہ عموما اس سے استدلال کرتے ہیں کہ یہ قول حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت انس سے مروی ہے، اور صحابہ کرام میں سے کوئی ان کا مخالف نہیں، اور اس طرح کی بات رائے سے نہیں کہی جاسکتی، اس واسطے مرفوع کے حکم میں ہوا۔ 

 اس کا جواب یہ ہے کہ :  
 (١)اس قول پر صحابہ کرام کا اتفاق نہیں، بلکہ حضرت علی، حضرت ابن عباس اور جبیر بن مطعم  سے پہلا قول مروی ہے، (کما تقدم) اس لئے اس کو اجماع نہیں کہہ سکتے۔  
 پھر مذکورہ بالا ائمہ عظام نے بھی اس قول کی مخالفت کی ہے، اور اتنے ائمہ کرام جب اس کی مخالفت کریں تو پھر اجماع کہاں رہ گیا؟  
 نیز بلا دلیل یہ کہنا کہ اس میں رائے کا دخل نہیں اور اس کی بنیاد پر اسے مرفوع کے حکم میں گرداننا بھی غلط اور ناقابل قبول ہے۔ 
 (٢) علامہ ابن حزم فرماتے ہیں کہ حضرت انس کے علاوہ ان میں سے کسی سے بھی یہ قول بسند صحیح ثابت نہیں، اس واسطے کہ حضرت عمر کا قول ایسی سند سے مروی ہے جس میں ایک راوی مجہول ہے جو اپنے والد سے روایت کرتا ہے اور وہ بھی مجہول ہے۔ 

 اور حضرت علی کی روایت ابن ابی لیلیٰ کے طریق سے ہے جو سئی الحفظ ہے اور وہ منہال سے روایت کرتا ہے جو متکلم فیہ ہے، نیز حضرت علی سے دوسرا قول بھی منقول ہے۔ (کما تقدم)  
  اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ابن ابی لیلیٰ ہے جو سئی الحفظ ہے اور ابو حمزہ ہے جو ضعیف ہے اور ابن عباس   سے بھی اس کے بر خلاف دوسرا قو ل مروی ہے۔  
 اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں اسماعیل بن عیاش اور عبداللہ بن نافع ہیں اوریہ دونوں ضعیف ہیں۔  
 اورحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں معاویہ بن صالح ہے جو قوی نہیں اور ابو مریم ہے جو مجہول ہے۔(8) 
 (٣) یہ صحابہ کرام  کے اقوال ہیں، مرفوع احادیث نہیں، اس واسطے مرفوع حدیثوں کے مقابلہ میں انھیں پیش کرنا اور ترجیح دینا درست نہیں۔ 

اس سائٹ کی دوسری مشہور تحریریں 

کلک کرکے ضرور پڑھیں 



 (٤)بہت سے ایسے مسائل میں یہ لوگ صحابہ کرام  کی ایک جماعت کی مخالفت کرتے رہتے ہیں جن میں ان(صحابہ)کا کوئی مخالف نہیں ہوتا، تو اس مسئلہ میں مرفوع حدیث کی بناء پر ان کی مخالفت میں کیا قباحت ہے؟ 
 بعض حضرات صرف تین دن کی قربانی کے لئے اس سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے تین دن سے زیادہ گوشت کو جمع کرنے سے منع فرمایا تھا، اور یہ تین دن یوم عید کو لے کر ہے، اور یہ قطعا جائز نہیں کہ قربانی کے جانور ایسے وقت ذبح کرنا مشروع ہو جب اس کے گوشت کا کھانا جائز نہ ہو، اس واسطے چوتھے دن وہ بھی ممنوع ہوا، بعد میں تین دن کے بعد قربانی کے گوشت کے کھانے کی حرمت تو منسوخ ہو گئی لیکن ذبح کرنے کی حرمت باقی رہ گئی۔ 
  اس کا جواب یہ ہے کہ: 
 (١)یہ حدیث منسوخ ہے، اس واسطے اس سے اور اس کے لازم سے استدلال کرنا درست نہیں۔ 
 (٢)نبی کریم ﷺ نے تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو جمع کرنے سے منع فرمایا تھا، تین دن کے بعد قربانی کرنے سے منع نہیں فرمایا تھا، اور دونوں میں بڑا فرق ہے، پھر جس سے ممانعت تھی اس کو منسوخ ماننا اور جس کی ممانعت نہیں تھی اس کو منسوخ حدیث کی بنا پر ممنوع قراردینا چہ معنی دارد؟ 
 (٣) حدیث کا مقصد ذبح کے وقت سے تین دن سے زیادہ گوشت کو جمع کرکے رکھنے سے منع کرنا اور اس طرح انھیں دوسرے حاجت مندوں کو گوشت دینے اور کھلانے پر مجبور کرناتھا۔ نہ کہ تین دن سے زیادہ ذبح کرنے سے منع کرنا تھا، جیسے کہ حضرت سلمہ بن الاکوع   کی متفق علیہ حدیث:”مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ، فَلاَ يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ، وَفِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ“(9) اور جبیر بن مطعم وغیرہ کی احادیث اور اقوال صحابہ و تابعین کو سامنے رکھنے سے سمجھ میں آتا ہے، ورنہ اس ممانعت سے اہل بادیہ اور دیگر فقراء کے ساتھ قدرے تعاون ہوتا تو گوشت کھانے اور ذبح کرنے کے ایام کو کم کر نے سے ان کے لئے اور دوسروں کے لئے بھی حرج ہوتا، کیونکہ جو لوگ ١٢ /ذی الحجہ کو مثلاً عصر بعد ذبح کرتے تو ان کے لئے کھانے کھلانے کے لئے بہت تھوڑا موقع رہتا۔ 
 اور اگر یہ کہیں کہ ذبح کے وقت سے تین دن سے زیادہ گوشت کو جمع کرنے کی ممانعت تھی خواہ قربانی دسویں ذی الحجہ کو کریں یا گیارہویں کو یا بارہویں کو یا تیرہویں کو تو یہ قباحت لازم نہیں آتی۔
_______ 
(1) مسند أحمد:4/ 82.

قربانی صرف عید کے دن ہی نہیں 

سوال :  ہمارے یہاں بعض حضرات کہتے ہیں کہ قربانی کا دن صرف عید کا دن (دسویں ذی الحجہ) ہے کیونکہ اسی کو یوم النحر کہا جاتا ہے، کیا ان کی یہ بات درست ہے؟ دلیل کے ساتھ بتائیں۔ 

جواب: ان کی یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
 ﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰي مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ﴾(الحج:٢٨) 
 اور مقررہ ایام میں اللہ کا نام لیں (یعنی بسم اللہ کہہ کر ذبح کریں) ان جانوروں پر جنھیں اللہ نے انہیں عطا فرمایا ہے۔ 
 دیکھئے آیت کریمہ میں﴿اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ﴾کے الفاظ وارد ہیں، جو جمع کے صیغے ہیں اور ان کے معنی ہیں مقررہ ایام، اس سے معلوم ہوا کہ صرف دسویں ذی الحجہ کو قربانی کے لئے خاص کرنا اور ایام تشریق میں قربانی کرنے سے روکنا بالکل غلط ہے۔ 

نعمة المنان 

1 تبصرے

  1. آپکی مذکورہ تحریر اس بات پر دال ہیکہ اگر کوئی 13 ذی الحجہ کو قربانی کرتا ہے تو قربانی کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیئے۔فقط۔واللہ اعلم

    جواب دیںحذف کریں

تحریر کیسی لگی تبصرہ کر کے ضرور بتائیں